” فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا “

” فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا “

سورہ “ال انشراح” کی پانچویں آیت ہے “فان مع العسر یسرا””بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے”..بعد نہی ساتھ…. ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بات تو ایک ہی ہوئی نا..پر نہی ذرا رکیں یہاں بات ایک نہی ہے.ایک بات ہوتی تو اللہ “مع” کے بجاۓبعد کا لفظ استعمال کرتے مگر اللہ کا قرآن اتنا پرفیکٹ ہے کہ حد نہی..یہ دو آیات میری فیورٹ ہیں.چلیں میں سمجھاتی ہوں آپکو..یہ آیت اس سورہ میں دو دفعہ آئی ہےایک ساتھ یعنی دہرائی گئی ہے. اور ہمیں پتا ہے کہ چیزیں دہرائی کیوں جاتی ہیں …ان پر زور دینے کے لیے..تاکید کے لیے..پر یہاں تھڑا معاملہ مختلف ہے ,” فان مع العسر یسرا”..پس بے شک ساتھ ہے تنگی کے آسانی, اگلی ہی آیت میں پھر ان لفظوں کو دہرایا جاتا ہے ..”ان مع العسر یسرا”.. بے شک ہر تنگی کے ساتھ ہے آسانی. بات ختم ہے نا؟ مگر نہی..اللہ کا قرآن بہت امیزنگ ہے, یہاں عربی زبان کا ایک اصول لاگو ہوتا ہے آپ سب کو یقینا”اسم نکرہ” اور “معرفہ” کا تو پتہ ہی ہو گا..عام چیزیں نکرہ ہوتی ہیں اور خاص معرفہ, اسی طرح عربی میں عام چیزوں کو خاص بنانے کے لیے “ال” لگایا جاتا ہے جیسے انگریزی میں The لگاتے ہیں.اب اس آیت کو دیکھیں یہاں خاص کیا ہے اور عام کیا ہے؟ سمجھ آیا؟؟”العسر” خاص ہے اور “یسر” عام …یعنی تنگی خاص ہے اور آسانی عام, اب یہاں لاگو ہوتا ہے عربی زبان کا ایک اور اصول .عربی میں اگر ایک فقرے میں ایک خاص لفظ ہے اور ایک عام لفظ ہو اور بات اگر اگلے ہی فقرے میں دہرا دی جائے تو اسکا مطلب بدل جاتا ہے یعنی کہ دہرائے جانے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ دوسرے فقرے میں جو خاص چیز ہے وہ تو وہی پہلے فقرے والی ہے پر جو عام چیز ہے وہ پہلے فقرے والی نہی ہے…ہممم یہاں بات تھوڑی مشکل ہے پر دھیان سے سمجھیں..دیکھیں…اگر یہ آیت ایک ہی دفعہ ہوتی تو اسکا مطلب ہوتا کہ تنگی کے بعد آسانی ہے..مگر دہرائے جانے کی صورت میں اب اسکا مطلب ہے بے شک ایک تنگی کے ساتھ آسانی ہے پھر اس تنگی کے ساتھ ایک اور آسانی ہے..دونوں آیات میں ایک ہی تنگی کی بات ہو رہی ہے مگر ان کے ساتھ جڑی آسانیاں الگ الگ ہیں.
بات یہ ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بتا رہے ہیں کی لوگو جب تم پر کوئی مشکل آئی ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ہم تمھیں آسانی دیتے ہیں اور پھر اسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی بھی دیتے ہیں…مطلب ایک “عسر” مگر ایک سے زیادہ “یسر”..مشکل ایک ہی ہوگی مگر انسان کو اک ساتھ بار بار مختلف آسانیاں بھی ملیں گی.قرآن کی ایک ایک آیت اتنی امیزنگ ہے کہ اس پر غورو فکر کرنے کے لیے ساٹھ ستر سال کی عمر بھی کم لگتی ہے.اللہ تعالی ہمیں قرآن پاک پڑھنے , سمجھنے اور اس پر غوروفکر کی توفیق دیں..
آمین.

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *